16 دسمبر 2012 - 20:30

ریاست کنٹیکیٹ کے ایک اسکول میں بھیانک فائرنگ میں بیس بچوں سمیت تیس افراد کے مارے جانےکے ایک روز بعد ریاست جنوبی الاباما میں فائرنگ کے ایک اور واقعے میں چار افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق سنیچر کو ایک مسلح شخص نے ایک اسپتال میں فائرنگ کردی جس میں ایک فوجی سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں مسلح فرد مارا گیا۔ اس سے پہلے جمعے کو ریاست کنٹیکیٹ کے نیوٹاؤن میں ایک اسکول میں ایک بیس سالہ نوجوان کی وحشیانہ فائرنگ میں بیس بچوں سمیت تیس افراد ہلاک ہوگئے تھےدرندگی کے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بچے جنگی اسلحے کا نشانہ بنے ہیں۔  ایک اور رپورٹ کے مطابق اوکلاہاما میں پولیس نے ایک اسکولی بچے کو اسکول میں بم رکھنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ یہ اسکولی بچہ اسکول میں بم کا دھماکہ کرکے اپنے ساتھیوں کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ پولیس کے مطابق بچے نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ وہ بم کے دھماکے کے ذریعے اپنی کلاس کے بچوں کو ہلاک کرنے کے لئے مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔ریاست کیلیفورنیا میں بھی ایک شخص نے بلاوجہ فائرنگ کرکے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے۔ رائٹرز نے کیلیفورنیا کی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنیچر کو لاس اینجلس سے چھپن کلومیٹر جنوب میں واقع نیوپورٹ بیچ کی ایک پارکنگ میں ایک مسلح شخص نے اپنی گاڑی سے اتر کے وحشیانہ انداز میں فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے اس واقعے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا لیکن لوگوں میں زبردست خوف و ہراس پیدا ہوگیا۔ پولیس نے مسلح فرد کو گرفتارکرلیا ہے لیکن ابھی تک اس کے بارے میں اطلاعات پولیس نے جاری نہیں کی ہیں۔امریکہ کے آئین میں اسلحہ رکھنے کی آزادی کی ضمانت دی گئ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں نوے فیصد سے زائد لوگوں کے پاس اسلحہ موجود ہے اور اسلحہ کلچر اب اس ملک کے لئے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جارہا ہے۔تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد ایک بار پھر امریکہ میں اسلحے پر پابندی کی بحث شروع ہوگئی ہے اور اسلحہ پر پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسلحہ کلچر میں فروغ کی ذمہ داری اسلحہ بنانے والوں کی قومی ایسوسی ایشن پر عائد ہوتی ہے جو اسلحہ رکھنے پر پابندی کی مخالف ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے نیوٹاؤن کے اسکول میں وحشیانہ فائرنگ میں بیس اسکولی بچوں سمیت تیس افراد کے مارے جانے کے بعد سیکڑوں لوگوں نے وائٹ ہاؤس کے سامنے اجتماع کرکے اسلحہ رکھنے پر پابندی کا مطالبہ دوہرایا۔امریکہ میں عوامی حلقوں کے ساتھ ہی دانشوروں کا طبقہ بھی اسلحے پر پابندی کا حامی ہے لیکن وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے اعلان کیا ہے کہ ابھی اسلحے پر پابندی پر غور کرنے کا وقت نہیں آیا ہے۔امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اشکبار آنکھوں کے ساتھ نیوٹاؤن کے سنڈی ہوک اسکول کے سانحے پر دکھ کا اظہار کیا لیکن اسلحے پر پابندی لگانے کے لوگوں کے مطالبے کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ اٹلانٹک سٹیز نامی انٹر نیٹ سائٹ نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ میں صرف دو ہزار گیارہ میں ، تیس ہزار سے زائد افراد آتشیں اسلحے سے ہلاک ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔/110